پیر 14 ستمبر 2026 - 17:57
یمنی عوام کی فتح ’’فتح الفتوح‘‘ ہے / حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ افغانستان پر حملے کی مذمت

حوزہ / آیت اللہ جواد مروی نے مظلوم اور مقاوم یمنی عوام کی کامیابیوں کو ’’فتح الفتوح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: 12 سال سے آلِ بنی امیہ اور آلِ مروان کی اولاد نے اس مظلوم قوم کو محاصرے میں رکھا ہوا ہے۔ یہ کیسا سخت محاصرہ ہے جو دنیا کی تمام اقوام کے لیے ایک سبق ہے لیکن یمنی عوام نے استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکنڈ سیکرٹری آیت اللہ جواد مروی نے درس خارج فقہ کے اختتام پر تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب میں یمن کے مجاہدینِ انصار اللہ کی حالیہ شاندار کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے ’’فتح الفتوح‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ہم مظلوم اور ولایت شعار یمنی عوام کو فتح الفتوح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مجھے یمن کے اندر سے ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں جو شاید بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچی ہوں گی۔ یہ کامیابی ان باتوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو عمومی اجتماعات اور محافل میں بیان کی گئی ہیں۔ حقیقتاً یہ ایک فتح الفتوح ہے۔ 12 سال سے آلِ بنی امیہ اور آلِ مروان کی اولاد نے اس مظلوم قوم کو محاصرے میں رکھا ہوا ہے۔ یہ کس قدر سخت محاصرہ تھا جو دنیا کی تمام اقوام کے لیے ایک سبق ہے لیکن یمنی عوام نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور مزاحمت کی۔

آیت اللہ جواد مروی نے کہا: میرا خطاب دنیا بھر کے منصف مزاج اہل سنت سے ہے کہ اس مظلوم قوم نے فلسطین اور غزہ کے مسئلے کے لیے کس طرح استقامت کا مظاہرہ کیا، اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں اور قول و عمل دونوں کے ذریعہ غزہ اور فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا لیکن بنی امیہ اور بنی مروان کی اولاد نے جو اہل سنت میں موجود ہیں، ان مظلوم لوگوں کے لیے کیا کیا؟ تاہم یمنی عوام نے صرف 12 گھنٹوں کے اندر ان کا پورا منصوبہ درہم برہم کر دیا، جس کے اثرات اور حقیقت مستقبل میں واضح ہوں گے۔

انہوں نے کہا: افغانستان میں طالبان کی حکومت نے اسلام کے بارے میں اپنے مخصوص نظریے اور تشریح کے تحت، افسوس کے ساتھ، اپنے آغاز ہی سے نامطلوب اور غیرعقلی اقدامات شروع کیے۔ ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین کو تعلیم اور سماجی امور سے محروم کیا، اس کے بعد مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے خلاف اقدامات شروع کیے، انہیں ان کے حقوق سے محروم کیا، حسینیہ اور امام بارگاہ بند کر دیے اور اب کابل کے ایک بڑے حوزہ علمیہ، حوزہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کیا، نوجوان طلبہ کو گرفتار کیا، مارپیٹ کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں اور بعض اساتذہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکنڈ سیکرٹری نے کہا: میں طالبان کے ملاّؤں سے کہتا ہوں کہ اگر علم رکھتے ہیں تو خود تاریخ پڑھو اور اگر علم نہیں رکھتے تو کسی سے کہو کہ آپ کو افغانستان کی تاریخ پڑھائے۔ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں نے اس ملک کی بقا اور اس کے ٹکڑے ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اسی کے نتیجے میں اس ملک میں قومی سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اہل سنت بھائیوں کے ساتھ اخوت اور محبت کے جذبے کو عروج تک پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا: میں کہتا ہوں کہ اپنی تاریخ پڑھو اور دیکھو کہ آپ کے آباؤ اجداد نے شیعوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا، حالانکہ شیعہ پہلی صدی ہجری سے اس سرزمین میں موجود ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد نے شیعوں کے خلاف جتنی بھی تشدد اور قتل و غارت کی کارروائیاں کیں، وہ انہیں ختم نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس یہ لوگ ہر روز مزید ترقی کرتے گئے۔لہذا اس طرز عمل سے باز آ جاؤ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha